اور جو کوشش کریں گے ہمارے لیے۔ ہم لازماً اُنکی رہنمائی کریں گے اپنی راہوں کیطرف۔ اور بےشک اللہ نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔

— سورة العنکبوت (۲۹) آیت ۶۹

پہلے اپنا تعارف۔ میں نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ تبلیغی جماعت میں گزارا۔ جوانی سے لے کر ادھیڑ عمر تک۔ میں جماعت کی سوچ اور عمل سے باخوبی واقف ہوں۔ انجان سے ایک فعال کارکن تک کا میرا سفر کیسا رہا۔


آئینے کی تمثیل — عکس اور حقیقت

جب آئنیے میں آپ خود کو دیکھتے ہو۔ تو ہر عکس درست دِکھتا ہے۔ لیکن آپ اگر خود کو آئینے کے اندر اُتار کر دوسری طرف سے دیکھو۔ تو آپکو اندازہ ہو گا کہ ہر شہ کو پلٹ دیا گیا ہے۔ جس منظر کو آپ نے پہلے حقیقت جانا۔ وہ درحقیقت اشیاء کو دیکھنے کا محض ایک انداز تھا۔ آپکی عقل نے اُس نظر پر ہی اپنی سوچ کی بنیاد رکھی۔ تو سچ یا حقیقت ہم کس کو کہیں۔

حقیقت تک وہ ہی پونچھ پاتے ہیں جو دل کی آنکھ کھولتے ہیں۔ جنکی آنکھ مسلسل ایک ہی بت کی عبادت پر ساکت نہیں ہوتی۔ وہ ہی آئینے کے اُس پار دیکھ پاتے۔ صرف وہ ہی نام نہاد حقیقت پر منبی خیالات کی چھانٹ کرنا جانتے ہیں۔ وہ ہی سچ کو قریب سے پہچانتے ہیں۔

یہ میرا ایک انجان سے تبلیغی جماعت کو جاننے تک کا سفر ہے۔ اور کیسے میں نے آئنیے کو دوسری طرف سے دیکھنا سیکھا۔

میٹرک کے امتحانات سے میں ابھی کچھ عرصہ قابل فارغ ہوا تھا۔ فارغ اؤقات میں کرکٹ، فلمز یا وڈیو گیمز ہی میرے مشاغل تھے۔ لگے ہاتھوں یوں ہی مقامی مسجد میں ہر روز نماز کے لیے چلا جاتا۔ فجر سے عشاء تک کی اکثر نمازیں میں باجماعت ادا کرتا۔

یوں تو نماز جمعہ میرا معمول تھا لیکن اب ہر روز باجماعت نماز کے لیے میں مسجد میں موجود ہوتا۔ مسجد کے ماحول میں مجھے مختلف لوگوں سے سلام دعا کا موقع ملا۔ اُن میں سے اکثر لوگ سماجی حیثیت میں منفرد مقام پر قائم تھے۔

اکثر لمحات کھیل سے نماز اور پھر کھیل کے درمیان گزر جاتے۔ میٹرک کے امتحان سے فارغ بچہ آخر اور کر بھی کیا سکتا ہے۔ بےفکری کا دور تھا۔ اپنے آپ کی سمجھ تو دور وقت کا ادراک رکھنا ہی ممکن نہ تھا۔

ہماری مسجد متوسط سے خوشحال علاقہ کے بیچ میں آباد ہے۔ اسکی ایک سے زائد منزلیں ہیں۔ اسکی ساخت پر بھی اچھا خاصہ پیسہ صرف ہوا تھا۔ اسلئے جب بھی کوئی بیرونی جماعت آتی تو وہ اکثر یہاں پر خوشدلی سے قیام کرتی۔ اُس وقت مجھے یہاں پر عرب، امریکہ اور پاکستان کے مختلف حصوں سے آئی جماعتوں سے ملنے کا موقعہ ملا۔

یہ وہ وقت تھا جب میں نے پہلی مرتبہ تبلیغی جماعت کا نام سنا۔ تبلیغی جماعت کے نام کو سواء میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ البتہ ہمارے ایک قریبی رشتہ دار جو ہمسائے بھی تھے۔ وہ تبلیغی جماعت کے ساتھ ایک عرصہ دراز سے منسلک تھے۔ بعد میں پتا چلا کہ ہماری مقامی مسجد میں اُن تبلیغی بھائی کی ایک خاص حیثیت ہے۔ وہ علاقہ کے امیر کے نیچے منتظم تھے۔ امیر صاحب اگر کہیں جماعت کے ساتھ گئے ہوں تو تبلیغی بھائی ہی کو مسجد میں امیر کا درجہ حاصل تھا۔

ہمسائے اور رشتہ دار ہونے کی نسبت سے اکثر ہماری اُن سے سلام دعا رہتی تھی۔ کبھی کبھار وہ یوں ہی ہمارے ساتھ عصر یا مغرب کے قریب کرکٹ میچ بھی کھیل لیتے۔ ہمارے یہ تبلیغی بھائی ہماری عمر سے کچھ پندرہ یا بیس سال زیادہ بڑے تھے۔

ذاتی طور پر میری تبلیغی جماعت میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اسلئے ہمارے تبلیغی بھائی جب ہم سے کوئی تبلیغ سے متعلق بات کرتے۔ تو ہم میں سے اکثر لوگ اُنکی بات کو ہنس کر ٹال دیتے۔

میرا ساتھ میرا دوست بھی تھا۔ جو میرے ساتھ ہی میٹرک کے امتحانات سے فارغ ہوا تھا۔ کرکٹ بھی ہم اکثر اکھٹے ہی کھیلتے تھے۔ میں اُس کو بچن سے جانتا تھا۔ ہم ایک ساتھ ہی پلے بڑے۔

میرا دوست تبلیغی جماعت میں میری طرح کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔ لیکن اُس کے لیے کسی کو بات کو “نہیں” کرنا بہت مشکل تھا۔

ابتداء میں تو تبلیغی بھائی کی بات کو اُس نے میری طرح مذاق میں نظرانداز کیا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ میں نے دیکھا کہ تبلیغی بھائی نے میرے دوست کو قائل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہاں تک کہ مجھے وقتاً فوقتاً اب احساس ہونے لگا تھا کہ وہ تبلیغی بھائی کی کسی فضول سی بات پر بھی مسکرا دیا کرتا۔ جس تبلیغی بھائی کی جماعت کے متعلق بات کو ہم مذاق میں نظرانداز کر دیا کرتے تھے۔ اُس ہی بات پر اب وہ خاموش ہو جاتا۔ وہ تبلیغی بھائی کی بات کو سنتا، چاہے وہ اُس کو سننا چاہتا، ماننا چاہتا یا نہیں۔

ادھورا کھیل — بےفکری کا خاتمہ

تبلیغی بھائی یوں اکثر کرکٹ کا میچ کبھی وقت سے کچھ زیادہ دیر پہلے ہی ختم کروا کر میرے دوست کو اپنے ہمراہ مسجد کی طرف لے جاتے۔ اُن کا انداز اس قدر ذلیل زبردستی کی طرح کا ہوتا کہ ہم اکثر اُن کو کہتے ابھی تو نماز میں وقت ہے۔ لیکن وہ ایک نہ سنتے اور میرے دوست کو اپنے ساتھ لے جاتے۔ اس طرح ہمارا کھیل ادھورا کا ادھورا رہ جاتا۔

مسجد میں نماز کے لیے تو ہم پہلے ہی جا رہے تھے۔ لیکن اب جاتے ہوئے احساس ہوتا تھا کہ جیسے ہمیں زبردستی سکول کی تعلیم کے لیے بھیجا یا کھینچا جا رہا ہے۔ نماز پڑھنے میں جو مزہ پہلے تھا وہ اب ایک عمل یا سخت کام جس سے آپ بیزار ہو اُس جیسے احساس میں بدل چکا تھا۔ نماز تو بہرحال ہم پھر بھی مسجد ہی میں ادا کرتے۔

اسی اثناء میں میٹرک کا نتیجہ آ گیا۔ میرے دوست کی کچھ مضامین میں کمپارٹ آ گئی۔ میں نے انٹرمیڈیٹ کے لیے قریبی کالج میں داخلہ لے لیا۔ اُسی کالج میں میرے ساتھ میرے دوست نے داخلہ لے لیا۔ کیونکہ سَپلی تو وہ اپنی تعلیم کے دوران بھی کلئیر کر سکتا تھا۔

تعلیم کے دوران ہمیں کرکٹ کھیلنے کا وقت تو نہیں ملا۔ لیکن نماز کی عادت جو پڑ چکی تھی۔ اس کے لیے کالج یا ٹوشن سنٹر میں جو کوئی قریبی مسجد یا مقامی جماعت قائم ہو۔ میں اُن کے ساتھ ہی نماز ادا کر لیتا۔

اس کے برعکس میرا دوست اکثر ہماری مقامی مسجد ہی میں نماز ادا کرتا۔ کیونکہ تعلیم سے واپسی پر اُسے اپنے سَپلی امتحانات کی تیاری کرنی ہوتی۔ وقت تیزی سے گزرتا گیا۔ قریب چھ ماہ جب سے تبلیغی بھیا نے میرے دوست پر محنت شروع کی تھی۔ اُسکا نتیجہ آ گیا۔ میرا دوست تبلیغی بھائی کے اسرار پر اپنے پہلے سہ روزہ کے لیے روانہ ہو گیا۔

اب میں جب بھی اپنی مسجد میں اب نماز کے لیے آتا تو دکھتا کہ تبلیغی بھیا اور میرا دوست اپنے کچھ تبلیغی ساتھیوں کے ساتھ نماز کے بعد اپنا ہی ایک علیدہ گروہ بنا کر ایک طرف ہو جاتے ہیں۔ اگر میں اُن کو سلام بھی کرتا تو وہ اُس کا جواب کسی خاص توجہ سے نہیں دیتے تھے۔ جواب بھی ایسا ہوتا کہ اسلام علیکم سے تم ہمارے گروہ میں شامل ہونے کی کوشش مت کرو۔ یہ اَن کہی باتیں شاید زبان سے ادا نہیں ہوتیں۔ لیکن احساسات اور اشاروں کی زبان سے خیالات دوسروں تک پونچھ جاتے ہیں۔

میرا دوست اور تبلیغی بھائی جس بھی گفتگو میں مصروف ہوں۔ وہ دوسروں کو اس سے علیدہ ہی رکھتے۔ اس ماحول سے میری زہنی نفسیات کو اکثر ٹھیس پونچھتی۔ کیونکہ اگر تو میں نے اپنے دوست کے ساتھ کچھ برا کیا ہو۔ تو وہ اور میں علیدہ ہوں۔ نماز تک تو میں ان سب کے ساتھ، ایک ہی جگہ باجماعت ادا کرتا ہوں۔ میرا بھی وہ ہی خدا ہے۔ جو ان کا خدا ہے۔ میں بھی اُس ہی رب کی عبادت کرتا ہوں۔ جس رب کی عبادت یہ سب کرتے ہیں۔ اور اُس رب کی عبادت بھی ہم ایک ساتھ ایک ہی مسجد میں ادا کرتے ہیں۔ تو پھر ہم میں تفریق کیسی؟

علیحدہ حلقہ — گروہی تفریق

اب میں جب بھی اپنے دوست سے ملتا تو اُس کی اکثر بات تبلیغ سے متعلق ہوتی۔ جیسا کہ تبلیغی بھائی نہ اُس کے زہن سے کھیل کر۔ مجھ تک پیغام رسائی کی ہو۔ کہ تم اسے بھی تبلیغی جماعت کی طرف لاؤ۔ کیونکہ اب جب بھی میں اُس سے بات کرتا تو مجھے ایسا لگتا کہ میں تبلیغی بھائی سے بات کر رہا ہوں۔ چہرا تو میرے دوست کا ہوتا مگر اُس کے اندر زہن اور زبان تبلیغی بھائی کی چل رہی ہوتی۔

بعد میں جب میں نے تبلیغی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔ تو میں سمجھ پایا کہ ہم تبلیغی جب اکثر کسی کو پہچان لیں۔ کہ اس مسلمان کا زہن سادہ ہے۔ تو پھر ہم اُس کے زہن پر یوں ہی وار کرتے ہیں۔ ہم سے سمجھتے ہیں کہ جو ہماری جماعت کا نہیں وہ کسی راہ پر نہیں۔ اُس کو اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ وہ مسلمان تو ہے مگر اُس کو اسلام کے قوائد کا درست طریقے سے علم نہیں۔ اگر وہ ہمارے ساتھ آ جائے تو ہم اُس کی اصلاح کر سکتے ہیں۔

جب بھی میں مسجد میں نماز کے لیے آتا۔ تو نماز کے بعد تبلیغی بھائی اور اپنے دوست وغیرة کے گروہ کو دیکھتا۔ اس سے میرے زہن پر نفسیاتی تناؤ بڑھتا۔ یہ سب ماحول میرے زہن پر گہرے نقش چھوڑ رہا تھا۔ میں سماجی طور پر قبولیت کے لیے خود کو اُن جیسا کرنے کی تمنا کرنے لگا۔

شاید یہ ہی وجہ تھی کہ ایک عرصے بعد میں نے خود کو قائل کر لیا۔ کہ میں بھی سہ روزہ لگانے تبلیغی جماعت کے ساتھ جاؤں گا۔ میں نے اُن ہی کی زبانوں نے نکلے الفاظ کو اپنی سوچ میں چاہتے یا ناچاہتے ہوئے جگہ دی۔ کہ میرا ایسا کرنا تو نبیوں والا کام ہے۔ آخرکار میرا دوست تو پہلے ہی سہ روزہ لگا چکا تھا۔

میں نے اپنے گھر والوں پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ اسلئے کہ انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کے دوران میرے لیے اجازت کے بغیر تبلیغ کے لیے گھر چھوڑنا ممکن نہ تھا۔ گھر میں پہلے بھی کچھ مسائل چل رہے تھے۔ میں نے گھر والوں کو قائل کرنے کے لیے اُن مسائل کا سہارا لیا۔ جب میں دین کے کام کے لیے نکل رہا ہوں تو وہاں جا کر اپنے مسائل کے حل کے لیے اللہ سے دعا کروں گا۔ میرا ایسا کہنا کسی حد تک اپنے گھر والوں کی نفسیات کے ساتھ کھیلانا تھا۔ جیسا تبلیغی بھائی کا ہماری مسجد میں میرے دوست سمیت دیگر تبلیغوں کا ایک گروہ بنا کر علیدہ اپنی نشتیں قائم کر کے دوسروں کی نفسیات کے ساتھ کھیلنا۔ شاید یہ سب نفسیات کا ہی کھیل تھا جس نے مجھے خود کو سہ روزے کے لیے قائل کر لیا۔

رخصتی — ماں کی دعائیں اور سفر کا آغاز

آخرکار گھر والے راضی ہو گئے اور میں نے مسجد میں تبلیغی جماعت کے ساتھ اپنے پہلے سہ روزے کے لیے وقت مقرر کر دیا۔ سہ روزہ کی صبح، سفر سے قبل میری ماں نے مجھے پیار بھری آنکھوں سے دیکھا۔ بہت سی دعائیں دیں۔ ۵۰۰ روپے کا جیب خرچ دیا۔ میں نے ضرروی سامان باندھا اور فجر کے وقت اپنا سامان لے کر مسجد پونچھ گیا۔

نماز فجر کے بعد جماعت کی تشکیل شروع ہو گئی۔ جو افراد جماعت کے ساتھ نکل رہے تھے۔ اُن سے بات چیت ہوئی۔ سب نے اپنا اپنا احوال بیان کیا۔ کئیوں نے ذکر کی فضیلت پر اپنی طرف سے کچھ باتیں سنائیں۔

گاؤں میں — پہلا سہ روزہ

صبح قریب سات بجے تک ہم مسجد میں ہی رکے رہے۔ ہم انتظار کرتے رہے کہ جن افراد نے سہ روزے کے لیے اپنا نام لکھوایا ہے وہ پونچھ جائیں۔ کچھ لوگ جنہوں نے وعدہ کیا تھا لیکن نہ آ سکے اُنہوں نے موبائل پر اپنا عذر پیش کر دیا۔ باقی ساتھ بجے تک اکثر افراد جو ہماری جماعت میں جانے والے تھے آ موجود ہوئے۔ وہاں سے ہم نے گاڑی پر شہر کے باہر ایک گاؤں سے منسلک مسجد کے لیے روانہ ہو گئے۔

مسجد پونچھے تو وہاں پر مذید کچھ ساتھوں شامل ہوئے۔ امیر صاحب بھی اُن ساتھیوں میں سے ایک تھے۔

جماعت کے امیر پہلے ہی کئی سال اس کام میں صرف کر چکے تھے۔ اِس ہی کام میں شاید اُنکی ڈارھی کے بیشتر بال سفید ہوئے۔ تبلیغ کے ماحول اور اسکے عمل سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔ امیر صاحب سماج کے متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ اپنی ذاتی حیثیت میں وہ کسی چھوٹے سے کاروبار سے منسلک تھے۔ اِس مرتبہ سہ روزے کے لیے وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو بھی ساتھ لائے تھے۔ جبکہ اپنے کاروبار کی دیکھ بھال کے لیے وہ اپنے بڑے بیٹے کو چھوڑ آئے تھے۔

شروع میں تو مجھے اپنی ماں اور گھر بہت یاد آیا۔ لیکن پھر کچھ دیر بعد میں اس نئے ماحول میں کھو گیا۔

جماعت میں سب لوگ میرے لیے نئے تھے۔ ان میں سے پہلے میں کسی کو نہیں جانتا تھا۔ ہاں ایک ساتھی قریبی علاقے سے تھا۔ لیکن میری اُس سے اِتنی کوئی بات چیت نہیں تھی کہ کہہ سکوں کہ میں اُسے جانتا ہوں۔

جمعہ کا روز تھا۔ امیر صاحب نے سب کو مسجد کے احاطے میں بلایا۔ ہم سب ایک دائرے میں بیٹھ گئے۔ ہر ایک نے اپنا تعارف کروایا۔ ہم نے ایک دوسری کی ناموں سے جان پہچان کی۔

امیر صاحب نے آخر میں کہا کہ یہ دین کا کام ہے۔ باہر جو دوست آپ کو ملتے ہیں وہ سب عارضی ہوتے ہیں۔ اس کام میں جن کے ساتھ آپ وقت گزارتے ہو۔ وہ ہی آپ کے دنیا اور آخرت میں اصلی دوست ثابت ہوتے ہیں۔ ان ہی سے آپ کا تعلق قائم رہتا ہے۔

وہ اور بات ہوئی کہ اُس جماعت کے اکثر افراد کی شکلوں کو میں نے دوبارہ اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔ دعا یا سلام تو ایک طرف دوستی تو بہت دور کی بات ہے۔ اب میں جب پلٹ کر ان باتوں کو سوچتا ہوں۔ تو سمجھ میں آتا ہے کہ شاید انسان جب کسی خاص ماحول میں ہو۔ تو اُس کی سوچ وہاں کی باتوں کو سوچنے یا سمجھنے سے پہلے ہی قبول کر لیتی ہے۔

اگلے روز ہم تبلیغی جماعت کی تعلیم سے گزرے۔ جیسا کہ آخری دس سورتوں کا رٹا لگانا۔ پانچ نکات کو یاد کرنا۔ فضائل اعمال سے کچھ حکایات پڑھ کر سنانا۔ فضائل کے شوق کو اُبھارنے کے لیے فضائل کی فضیلت پر بات کرنا۔

ظہر سے پہلے امیر صاحب نے مسجد کے ممبر کے قریب اپنی ایک نشت قائم کی۔ جس میں جماعت کے اکثر ساتھی اُن کے اردگرد بیٹھ گئے۔ امیر صاحب نے درس کا آغاز کر دیا۔ جس میں وہ احادیث، واقعات اور صحابہ کے نام سے مشہور باتیں بیان کرتے جاتے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضہ کی زندگی پر تفصیل سے قریب آدھا گھنٹہ بات ہوئی۔

حضرت ابوبکر رضہ پر جب بات ختم ہونے کے قریب تھی تو امیر صاحب کے اردگرد کچھ ساتھی رونے لگ پڑے۔ یہ دیکھ کر امیر صاحب کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔ لیکن وہ پھر بھی بات کرتے رہے۔ جو ساتھی ابھی تک روئے نہیں تھے امیر صاحب نے اب اپنے اردگرد اُن ساتھوں کی طرف اپنا چہرہ کر کے بات کو طول دے کر کھینچنا شروع کر دیا۔

مجبوری کے آنسو — گروہی دباؤ

میرے لیے یہ سب کچھ بہت مشکل تھا۔ کیوں کہ اؤل تو یہ میرا پہلا سہ روزہ تھا۔ اور دوسرا یہ کہ میں سمجھتا تھا کہ بغیر کسی مقصد کے کسی بھی شخصیت کے متعلق بات کر کے دوسروں کو اُبھارنا بےمعنی ہے۔

میں ہرگز ہرگز یہ نہیں چاہتا تھا۔ کہ یہاں پر موجود تبلیغی بھائی مجھے کسی بھی طرح اپنے سے الگ پائیں۔

اس کے لیے میں نے اپنے زہن پر شدید زور دیا اور خود کو رونے پر آمادہ کر لیا۔ روندی سی صورت بنا کر آنکھوں سے کچھ آنسو ٹپکائے۔ میں نے یقینی بنایا کہ امیر صاحب اور دیگر ساتھی میری روندی صورت کو دیکھ لیں۔ میرا رونا اُن کے لیے اس بات کا ثبوت ہو کہ میں بھی اُن ہی جیسا ایک اچھا مسلمان ہوں۔ وہ میرے ایمان پر شک نہ کریں۔

یہ شرمندگی کا پہلو افراد کو جماعت کے طریق پر چلانے کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ورنہ آپ کسی کے ساتھ زبردستی تو نہیں کر سکتے۔ لیکن جب آپ کسی کو ایسے ماحول میں پھینکتے ہو۔ جہاں پر وہ کسی عمل کہ نہ کرنے پر شرمندہ ہو۔ تو وہ شخص ناچاہتے ہوئے بھی وہ عمل ازخود ایسے کرتا ہے جیسا کہ وہ عمل اُس کی اپنی ذات سے صادر ہو۔

سہ روزے کا وقت یوں ہی بیت گیا۔ لمحات کا احساس بھی نہ ہوا۔ شاید آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں تبلیغی جماعت کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا۔ لیکن اب میری سوچ لاشعوری طور پر خود کو تبلیغی جماعت کے ساتھ جڑے رہنے پر قائل کر چکی تھی۔ میرے اندر تبلیغی جماعت کے فعال کارکن کی حیثیت سے جزبات اپنی جڑ پکڑ چکے تھے۔

ایک فعال کارکن

میں اب تبلیغی جماعت کے ایک فعال کارکن کی حیثیت سے کام کرنا چاہتا تھا۔ اسکے لیے میں نے اپنی مسجد میں باجماعت نماز کی امامت کے بعد اعلان کرنا شروع کر دیا۔ بھائیوں دعا کے بعد مسجد میں کچھ دین کی بات ہو گی۔ اگر آپ چاہتے ہیں تو آپ بعد میں رک کر ہماری بات سن سکتے ہیں۔

درس کے آغاز سے قبل میں فضائل اعمال کی کتاب کو اُٹھا کر لے آتا۔ میرا دوست بھی میرے ساتھ ہی ہوتا۔ ہم دونوں میں مقابلہ ہوتا کہ کون فضائل اعمال کی کتاب اُٹھا لائے گا۔ کیونکہ جسکے ہاتھ میں کتاب لگ گئی وہ ہی درس دے گا۔

میں نے یہ درس کئی ماہ تک لگاتار سنایا۔ یہاں تک کہ تبلیغی بھائی نے مجھے یہاں تک کہہ دیا۔ بھائی کسی اور کو بھی درس سنانے کا موقع دیجئے۔ لیکن میں نے اکثر اُنکی بات کو سنا اَن سنا کر دیا۔ کیونکہ میں فضائل اعمال سے نمازیوں کو درس دینے کا بہت شوقیں تھا۔

رائیونڈ اجتماع — دوسرا سہ روزہ

رائیونڈ اجتماع — خیموں کا سمندر

میرا اگلا سہ روزہ رائیونڈ کے اجتماع کے موقع پر لگا۔ وہاں پر میرے ساتھ جو ساتھی موجود تھے اُن کی اکثریت کو میں جانتا تھا۔ میں نے دور دراز سے آئے ہوئے علماء کے خطبات کو سنا۔ کچھ مشہور تھے اور اکثر کے نام تک میں نہیں جانتا تھا۔

اجتماع میں ہم خیموں کے نیچے۔ زمین پر اپنا بستر لگا کر سوئے۔ دعا کرتے رہتے کہ بارش نہ ہو۔ ورنہ ہر جگہ کچی مٹی کی وجہ سے کیچڑ ہی کیچڑ ہو جائے گا۔ ہم فجر کے وقت جاگتے۔ نہانے کا تو کوئی انتظام نہ تھا۔ لیکن پاخانے کے لیے ہمارے خیموں میں سے ایک طرف کچی سڑک کے پار بیت الخلاء کا خاطر خواہ انتظام موجود تھا۔

شہر میں — تیسرا سہ روزہ

تیسرے سہ روزہ کہ لیے میں اپنی رہائش سے دور ایک نچلے متوسط طبقے کی مسجد میں گیا۔ ہمیں رہائش کے لیے مسجد کی پہلی منزل دستیاب ہوئی۔ ماہ رمضان چل رہا تھا۔ طاق راتوں کا سلسلہ تھا۔

میری ترجیح تھی کہ میں آدھی رات سے کچھ زائد عرصہ جاگوں۔ جماعت کے ساتھی تو سو جاتے مگر میں عبادت اور ذکر جاری رکھتا۔

ایک روز یوں ہی میں قرآن پڑھ رہا تھا کہ مجھے ایک تبلیغی بھائی نے کہا۔ آپ جماعت کے ساتھ آ جائیے۔ وہاں پر سب لوگ جمع ہیں۔ میں قرآنی آیات میں اپنا دل لگا چکا تھا۔ جواباً میں نے کہا کہ آپ کیجئے میں قرآن پڑھنے میں مصروف ہوں۔

تبلیغی بھائی نے کہا اسے یہیں پر چھوڑ دیجئے۔ بعد میں دیکھ لیجئے گا۔ میں نے کہا کیوں نہ قرآن کو بھی ساتھ لے چلتے ہیں۔ تبلیغی بھائی نے کہا نہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔

تبلیغی بھائی نے قرآن کو رد کروا کر مجھے اپنے ساتھ آنے پر اسراراً مجبور کر دیا۔ مجھے بُرا تو بہت لگا۔ لیکن میں ایک اَدنا کارکن کی حیثیت سے کر بھی کیا سکتا تھا۔

قرآن الماری میں — ردِ قرآن

میں نے قرآن کو چوم کر مسجد کے الماری میں واپس رکھ دیا۔ دل میں تو شدت سے قرآن کی محبت ایک زندہ شہ کی طرح میرے اندر تڑپ رہی تھی۔ لیکن نا چاہتے ہوئے بھی میں تبلیغی بھائی کے ساتھ ہو لیا۔

دوران محفل میرے دل میں جو قرآن کی تڑپ تھی۔ وہ ابھی تک زہن میں ایک روشن خیال کی طرح زندہ تھی۔ محفل میں وقفہ کے دوران میں نے عرض کیا۔ کیوں نہ ہم آج قرآن کو بھی اپنی محفل میں حصہ دیں۔ کیوں نہ ہم قرآن کی تلاوت اور اُسکی آیات کے ترجمہ سے اپنے زہنوں کو تازہ دم کریں۔ خاصکر رمضان میں تو ایسا جماعتی درس باعث رحمت رب العالمین ہو گا۔

میری اس بات پر وہاں پر ایسی خاموشی ہوئی کہ کسی نے میری طرف دیکھنا بھی گنوارا نہ کیا۔ سب دائیرے میں بیٹھ کر اپنا منہ کو یوں گول کر بیٹھے کہ جیسا اُنہوں نے میری بات کو سنا اَن سنا کر دیا۔

تبلیغ جماعت کے امیر صاحب نے مجھ پر سوالی نظروں سے اشارہ کر کے کہا۔ وہ پھر دیکھ لیں گے۔ لیکن وہ پھر کبھی نہ آئی۔ جماعتی درس میں قرآن کی تعلیم کے متعلق بات تک نہ ہوئی۔

قصہ مختصر

زندگی کے ایام یوں ہی جماعت کے ساتھ گزرتے رہے۔ جس تبلیغی بھائی کی وجہ سے میں اور میرا دوست سہ روزے کے لیے نکلے تھے۔ اُس تبلیغی بھائی کی طرح اب ہم تبلیغی جماعت کا کام کرنے لگے۔ علاقہ میں گشت کرنے ساتھیوں کے ہمراہ جاتے۔ بعد نماز عصر ہم اکثر مسجد کی سمت کو چن کر غیرفعال ساتھوں سے ملنے اُن کے گھر جاتے۔ اُنکو تبلیغ کے ساتھ دوبارہ جڑے رہنے کی دعوت دیتے۔

اپنی زندگی کا بہترین وقت میں نے تبلیغی جماعت میں صرف کیا۔ لیکن میرے زہن میں میرا تیسرا سہ روزہ۔ جسے میں میں نے قرآن کے درس کی بات کی۔ اُس دوران میرے تبلیغی بھائیوں نے قرآنی درس پر جو خاموشی کا انداز اختیار کیا اُس سے میرے دل کو بہت ٹھیس پونچھی۔ اس بات کا احساس مجھے وقتاً فوقتاً اپنے خیالات میں ہوتا رہتا تھا۔ میں اُس بات کو کبھی بھول نہ پایا۔

ایک لمبے عرصہ جماعت کے ساتھ گزارنے کے بعد۔ قدرتی طور پر میرے زہن میں جماعت کے متعلق کچھ سوالات نے جنم لیا۔ خاصکر یہ کہ تبلیغی جماعت قرآن کو کس حیثیت میں قبول کرتی ہے۔ قرآن ہمارے جماعتی درس کا حصہ کیوں نہیں۔ میں سمجھتا تھا کہ کوئی بھی اسلامی تبلیغ۔ قرآن کی تعلیم کے بغیر اپنے کارکنوں کی تربیت نہیں کر سکتی۔ چاہے وہ تعلیم ایک رکوع کی تلاوت باترجمہ ہی کیوں نہ ہو۔

سوچا کیوں نہ اپنے جماعت کے پرانے ساتھیوں سے رہنمائی لوں۔ امیر صاحب اور کچھ دیگر پرانے ساتھی تو لمبے لمبے عرصے بیرون ملک تک اپنی زندگیاں تبلیغ کو دے آئے تھے۔

واجد بھیا ہمارے ایک قریبی تبلیغی ساتھی تھے۔ اُن کی ڈارھی ابھی تھوڑی سی سفید ہوئی ہو گی۔ لیکن واجد بھیا کا جماعت کے ساتھ تعلق ایک عرصے کا نام ہے۔ بھیا پہلے ہی دعوت کے لیے دوردراز گاؤں اور شہر جا چکے تھے۔ میرا تو چلہ بھی اُنکے تو کئی چلے، سہ روزے، اور سال کے بعد عمل میں آیا۔

مجھے خیال آیا کہ میں ان کے سامنے اپنی بات پیش کروں۔ اپنے سوالات ان کے سامنے رکھوں۔ تاکہ میری بہترین اصلاح ممکن ہو سکے۔

ایک عرصے تک میں سوچتا رہا۔ کس حکمت عملی پر واجد بھیا سے گفتگو کا آغاز کروں۔ اس کشموکش میں کئی ماہ بیت گئے۔ تذبذب نے میری سوچ کو ساقط کر ڈالا۔ متوقع ندامت کا احساس۔ میں خود کو ناچیز سمجھتا تھا۔

ہمت کا لمحہ — واجد بھیا سے ملاقات

لیکن ایک روز، بعد نماز عصر۔ خدا کا کچھ ایسا کرم ہوا کہ اُس خدا نے مجھے ہمت دی اور میں نے بلااختیار واجد بھیا سے اسلام و علیکم کہہ ڈالا۔ بھیا نے مسکرا کر وعلیکم اسلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ کہا۔ دل سے ایک دم سوال اُمڈ آیا۔ واجد بھائی اگر آپ مصروف نہیں تو کیا آپ اپنا کچھ وقت مجھے عنایت کر سکتے ہیں۔

نشست اؤل

مسجد میں نمازیوں سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھ گئے۔ تاکہ ہماری گفتگو سے کوئی نمازی پریشان نہ ہو۔ واجد بھیا نہ مسکرا کر کہا۔ آپ اب بات کیجئے۔

میں نے عرض کیا۔ بھیا چلہ میں لگا چکا۔ سہ روزے کے کئے عمل سے گزر چکا۔ سیکھنے کو بھی بہت کچھ ملا۔ یہ میں کہتا ہوں۔ اتنا عرصہ لاگنے کے باوجود میرا دل دین کو سیکھنے اور سیکھانے کے لیے تڑپتا ہے۔ لیکن مجھے اپنا آپ اندر سے کچھ خالی خالی سا محسوس ہوتا ہے۔ کیا کہیں مجھ میں کوئی کمی ہے۔

واجد بھیا کچھ دیر خاموش رہے، پھر کہا۔ میں آپکی بات کی قدر کرتا ہوں۔ یہ سیکھنے سیکھانے کا کام ہے۔ میں نے آپکی بات سنی اور سمجھی۔ لیکن مجھے آپکی بات میں کہیں کوئی سوال نظر نہیں آیا۔ اگر آپ کسی خاص نقطے پر بات کریں تو شاید میں آپکی رہنمائی کر سکوں۔

کچھ دیر میں سوچ میں پڑا رہا کہ اپنی بات کیسے بیان کروں۔ پھر دل ہلکا کرنے کے لیے بات کو صاف صاف بیان کرنے کی ٹھانی۔

سوال بھیا ہماری کتاب فضائل اعمال۔ اس میں جو واقعات، قصے، حقائتیں درج ہیں۔ انکا مقصد کیا ہے۔

جواب انکا مقصد آپکے دل میں فضائل کا شوق پیدا کرنا ہے۔ جیسا کہ فضائل اعمال کے اندر فضائل قرآن کا باب درج ہے۔ اِسکو پڑھ کر آپکے دل میں قرآن کو پڑھنے اور سمجھنے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔

سوال بھیا یہ قرآن پڑھنے کا شوق کس کام کا اگر ہم جماعتی درس سے خالص قرآن کی تعلیم ہی کو لاتعلق رکھیں۔

جواب نہیں، ایسا تو نہیں۔ ہم آپکو سورتیں یاد کرواتے ہیں۔

سوال بھیا وہ تو محض رٹے کا عمل ہے۔ دس مرتبہ ایک ہی سورة دہراؤ بغیر عقل استعمال کئے۔ میرا نقطہ فہم سے متعلق ہے۔ وہ فہم جو باترجمہ درس قرآن سے آپکے زہن میں اُترتا ہے۔

جواب آپکو قرآن باترجمہ پڑھنے سے روکا کس نے ہے۔

سوال بات بھیا روکنے کی نہیں۔ جب ہم فضائل قرآن پر اتنا زور دیتے ہیں۔ تو کیا ہم باترجمہ قرآن کی تعلیم کو اپنے درس کا حصہ نہیں بنا سکتے۔

جواب جماعت کا یہ مقصد نہیں۔

سوال مقصد نہیں، قرآن کی تلقین مگر اُسکو باجماعت باترجمہ پڑھنا سمجھنا جماعت کا مقصد نہیں۔ تو فضائل قرآن کو سننا سنانا کس کام کا۔

جواب مقصد آپ میں قرآن کے فہم کا شوق بیدار کرنا ہے۔ جماعت کا کام آپکو راستہ دِکھانا ہے۔ راستے پر چلنا آپکا اپنا کام ہے۔

سوال یہ کیسی جماعت۔ جو راستہ تو دکھائے مگر خود اُس راستے سے عملی طور پر نااشناء رہے۔

جواب قرآن اہم ہے۔ اُسکی تعلیم بھی اہم۔ آپ کسی عالم کے پاس جائیے۔ ورنہ اگر آپ خود سے قرآن کو پڑھیں یا سمجھیں گے تو بھٹک سکتے ہیں۔

سوال بھٹک سکتا ہوں۔ لیکن ہماری اپنی جماعتی کتب مثلاً فضائل اعمال وغیرہ۔ تو پھر میں اِنکو پڑھ کر بھی بھٹک سکتا ہوں۔ یوں تو مجھے بچوں کی طرح اپنی اُنگلی پکڑوا کر ہر عمل سے گزروانا پڑے گا۔

جواب یہ سب بحث ہے۔

سوال تو کیا قرآن کو باترجمہ جماعتی درس میں شامل کرنا بحث ہے۔ یہ کیسی ٹھیکے داری ہے کہ ہم جس قرآن کا شوق سننے والوں کے دلوں میں اُتار رہے ہیں۔ وہ کام ہم خود اپنی جماعت میں نہیں کرتے۔

جواب دیکھئے بھائی۔ آپ بات کو اُلجھا رہے ہیں۔ ہمارا کام لوگوں کو ہدایت کی طرف لانا ہے۔ ہدایت دینا اللہ کا کام ہے۔

سوال تو کیا بھیا۔ فہم قرآن کے بغیر لوگوں کو دعوت و ہدایت کا عمل مکمل ہو سکتا ہے۔

جواب بھائی فضائل اعمال میں قرآنی فضائل میں اس ہی پر تو بات ہوئی ہے۔

سوال لیکن بھیا، فضائل قرآن کا باب قرآن تو نہیں۔ ہدایت تو قرآن اور اُسکے فہم ہی سے ملنی ہے۔ اگر اس فہم پر جماعتی حیثیت میں کوئی صریح کوشش ہی نہ ہو۔ تو کیا ہمیں فہم اپنے ہاتھوں کی لکھی کتب سے آنا ہے۔

جواب فہم تو خدا نے دینا ہے۔ ہمارا کام ہے صرف دعوت۔

سوال تو بھیا خدا ہی نے تو قرآن کو فہم کا ذریعہ بنایا ہے۔ قرآن موجود، ترجمہ موجود۔ خدا کی ذات نے قرآن سے ہدایت اور فہم کو پیش پیش فرما دیا۔ تو اب اگر ہم اس فہم کی طرف نہ آئیں۔ تو کیا ہمارا درس محض ڈھونگ نہیں۔

جواب اچھا، تو ترجمہ کس کا پڑھو گے۔ گمراہ ہو سکتے ہو۔

سوال ہم اپنے ہی فرقے کا ترجمہ اُٹھا لیتے ہیں۔ مقصد تو قرآن سے ہدایت اور فہم حاصل کرنا ہے۔

جواب تم گمراہ ہو سکتے ہو۔ کسی عالم کے ساتھ مل کر یہ سب کرو۔

سوال تو کیا میں اپنے علماء کے لکھے تراجم و تفسیر پڑھ کر بھی گمراہ ہو سکتا ہوں۔

جواب ہاں ہو سکتے ہو۔

سوال تو فضائل اعمال سے جن اعمال کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ تو کیا میں اُن سے بھی گمراہ ہو سکتا ہوں۔

جواب نہیں۔ فضائل اعمال عام فہم ہے۔ اس سے اُس طرح کی گمراہی کا خدشہ نہیں۔

سوال ہمارے اپنے علماء کی لکھی تفاسیر و تراجم کیا عام فہم نہیں۔ یا اُس سے بھی گمراہی کا خدشہ ہے۔

جواب یہ اچھا سوال ہے۔ یوں تو میں نے پہلے کبھی سوچا ہی نہیں۔ فضائل اعمال اگر عام فہم ہے۔ تو ہمارے اپنے علماء کے لکھے تراجم اور تفسیر بھی تو عام فہم ہیں۔ ہم یہ کیسے کہتے ہیں کہ اُنکے ہاتھوں کی لکھی فضائل اعمال سے گمراہی کا خدشہ نہیں۔ لیکن اُن ہی کے ہاتھوں اور زہنوں کی کاوش ترجمہ قرآن و تفسیر سے ہم گمراہ ہو سکتے ہیں۔ یوں تو ہم فضائل اعمال اور اپنی کتب کو قرآن پر فوقیت دینے پر مذمر ہیں۔

وقت گزرنے تک کی خبر نہ ہوئی۔ نماز مغرب کی اذان ہونے کو تھی۔ اسلئے ہم نے اپنی نشت کو وہیں پر روکا۔

نشست دوم

یوں ہی کئی روز بیت گئے۔ واجد بھیا مسجد سے کچھ عرصہ کے لیے غائب ہو گئے۔ کچھ ہفتوں کا وقت تو یوں ہی گزر گیا۔ ایک دن یوں ہی حسب معمول میں مسجد میں نماز ادا کرنے آیا۔ تو وہاں پر واجد بھیا کو پایا۔ بعد از اُن سے سلام دعا ہوئی۔ اب واجد بھیا نے مجھ سے کچھ وقت کی درخواست مانگی۔ جسے میں نے باخوشی قبول کر لیا۔

واجد تبلیغی جماعت کا مقصد لوگوں کو نماز کی طرف رغبت دینا ہے۔ کیونکہ لوگ تو نماز ہی نہیں پڑھتے۔

جواب بھیا آپکو کس نے کہا۔ میں تو تبلیغ سے پہلے بھی نماز باجماعت ادا کرتا تھا۔ ہماری جماعت رب یا خدا تو نہیں کہ لوگوں کو کہے کہ تم لوگ نماز ادا نہیں کرتے۔

واجد جماعت “امر بالمعروف والنهي عن المنكر” میں سے صرف “امر بالمعروف” پر کارفرماء ہے۔ کیونکہ “النهي عن المنكر” کے لیے ادارے موجود ہیں۔

جواب قرآن کی اُس آیت میں تو کسی ادارہ کا ذکر نہیں۔ جس بات سے اپنے پر تنقید آئے، اُسکی تلقین نہ کرنا منافقت ہے۔ کیونکہ “النهي عن المنكر” کا تعلق سماج کی عملی بہتری سے متعلق ہے۔

بےشک اللہ کسی قوم کی حالات نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدلیں۔

— سورة الرعد ۱۳ آیت ۱۱

واجد جماعتی عقائد۔ میں قرآن کے فضائل بیان کرنا لیکن خود اُسکے درس سے جماعت کو خالی رکھنا۔ اُلٹا کہنا کہ تم اِسے خود اکیلے بھی مت پڑھو۔ ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے۔ “النهي عن المنكر” سے اپنی ادارہ نما تشریح ایجاد کرنا۔ یہ سب جواب صاف صریح انداز میں جماعت کے اندر اتنا عرصہ گزار کر تو میں نے بھی نہیں سوچیں۔ تو پھر آپکی نظر میں گمراہ کون ہے۔

جواب یہ بات سوچنے کے قابل ہے۔

اب ہم ایک دوسرے کی بات کو سمجھنے لگے تھے۔ ہم اب بھی تبلیغی جماعت کے سرگرم کارکن تھے۔ واجد بھیا کی تو کیا ہی بات۔ اُن سا کارکن بھی کیا کارکن۔ جس نے اپنی زندگی کو ہی تبلیغ میں ایسا پرو دیا کہ اُنکی اپنی شخصیت تو تبلیغی کام میں کہیں ثانوی ہو رہ گئی۔

تبلیغی جماعت کے عمل یا سوچ سے اختلاف کرنا تو بےشک ہمارا اخلاقی حق تھا۔ اسکا ہرگز مطلب مقصد نہیں کہ ہم جماعت ہی کو خیرآباد کہہ دیں۔

دین کیسے ہماری زندگی میں آئے یہ تو بعد کی بات ہے۔ اؤل قدم تو دین کے فہم سے روشنائی ہے۔ اور دین کا فہم بغیر قرآن کی سمجھ کے حاصل کرنا ایسا ہی ہے کہ ہم کوئی گمنام سا راستہ اپنا لیں۔ پھر کہیں کہ ہم کامیابی کی طرف گامزن ہیں۔ بھلا اندھے بھی کیا کسی کو روشنائی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

القرآن القرآن القرآن

ہم نے سوچا۔ کیونکہ اپنے بزرگوں کے اپنے ہاتھوں کی لکھی کتب۔ اُنکے اپنے زہن سے صادر واقعات پر مبنی حقائیات کو عام فہم کہہ کر پھیلانے کی بجائے۔ القرآن کو بنیاد بنایا جائے۔ کیونکہ قرآن کسی روای یا بابا جی کی محتاج تو نہیں۔ قرآن تو وہ سچی خبر ہے جسے اللہ نے مقام دیا اور رسول اللہ نے اپنے پیارے مبارک لہن سے انسانیت تک پونچھایا۔

اب ہم نے جب ٹھان لیا۔ تو اللہ کا نام لیا۔ اور قرآن کو تبلیغی جماعت کے درس کا حصہ بنانے کا سوچ لیا۔

بسم الله

درس قرآن — نور و ہدایت

ایک روز بعد نماز عصر۔ واجد بھیا اور میں جو اپنے بزرگوں کی لکھی فضائل اعمال ساتھیوں کے لیے بڑے شوق سے پڑھتے تھے۔ ہم نے اب اپنے مسلک کے عالم کا قرآنی ترجمہ کھول کر درس قرآن کا آغاز کر دیا۔ واجد بھیا پہلے قرآن کی آیات پڑھتے۔ پھر رفتہ رفتہ صرف اُن آیات کا ترجمہ پڑھتے جاتے۔

درس کے بعد احساس ہوتا۔ جیسا ہمارا وجود زہنی تناؤ سے نکل کر پرسکون سا ہو گیا ہے۔ کوئی نور خدا ہے یا یہ کتاب خدا القرآن کا منفرد سبق کہ ہم خود کو مکمل مکمل محسوس کرنے لگے۔ ہمیں تو یوں لگتا تھا کہ جیسے ہمارا زہن کھلتا چلا جا رہا ہے۔ خدا کی رحمت نے ہمیں آ لیا ہے۔ گمراہ ہونے کی بجائے ہمیں روحانی سکون کچھ ایسا نصیب ہوتا کہ ہم بلااختیار کہہ اُٹھتے۔ الحمداللہ۔

رفتہ رفتہ ہمارا درس نماز کے اکثر ساتھیوں کو اتنا پسند آیا کہ ہم ابھی قرآن کھولنے ہی لگتے کہ جیسا اُنکے چہروں پر مسکراہٹ اُمڈ آتی۔ یہ مسکراہٹ ہماری نہیں، درس قرآن کی تھی۔

درس کے بعد ہمیں کچھ ساتھیوں نے یوں کہا کہ وہ ہمارے درس سے زہنی سکون حاصل کرتے ہیں۔ آپ کا درس تو ہمیں دلبرداشتگی سے سکون تک لے جاتا ہے۔ میں پہچان گیا تھا کہ درس قرآن ہی اصل تبلیغ ہے۔

واجد بھیا نے سننے والوں سے پوچھا۔ آپ حضرات تو نماز کئی عرصے سے پڑھ رہے ہیں۔ ہمارا درس تو پہلے بھی ہوتا تھا۔ لیکن اب آپ کیوں ازخود شوق سے بن بلائے ہی درس میں آ جاتے ہیں۔ سب کا قریب ایک ہی جواب تھا۔ پہلے آپ جس کتاب سے پڑھتے تھے اُس پر ہمارا کوئی دین ایمان نہیں۔ لیکن جس سے اب آپ درس دے رہے ہیں اس ہی نے تو محمد عربی کو رسول اللہ بنایا۔

تو (اے نبیؐ) آپ اِس الحدیث (القرآن) کی تکذیب کرنے والوں کے معاملے کو مجھ پر چھوڑ دیجئے۔ ہم ان کو رفتہ رفتہ وہاں سے کھینچیں گے جہاں سے اِنکو خبر بھی نہیں ہو گی۔ میں صرف اِنکو مہلت دیتا ہوں۔ بےشک میری تدبیر مضبوط ہے۔

— سورة القلم ۶۸ آیت ۴۴ ت ۴۵

اچھا وقت ہمیشہ تو نہیں رہتا۔ درس قرآن کی تعلیم کرتے کرتے ہمیں قریب ایک ماہ بیت چکا تھا۔ ایک روز نماز کے بعد مسجد کے امیر نے ہمیں اپنے پاس کچھ بات کرنے کے لیے بلایا۔

امیر یہ جو آئے روز آپ درس تبلیغ کے نام پر قرآن کھول کر تعلیم کرنے بیٹھ جاتے ہو۔ کیا یہ آپکو کسی نے ایسا کرنے کو کہا۔ کیا آپ نے اس کے لیے کسی سے اجازت طلب کی۔

جواب جی! ہم کیا کافر ہیں جو تعلیم قرآن کے لیے آپ سے بھیک مانگیں۔ ہمیں آپکی اجازت کیوں چاہیے۔ کیا آپ اللہ کے اس گھر کے مالک ہیں۔

امیر نہیں۔ پر یہ سب کچھ یہاں پر نہیں چلے گا۔

جواب امیر صاحب مسئلہ کیا ہے۔ آپ کو ہوا کیا ہے۔

امیر جماعت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔

جواب پھر فضائل اعمال میں فضائل قرآن نامی باب کی گنجائش کہاں سے آ گئی۔ اب جب ہم وہ عملی طور پر کر رہے ہیں۔ جس عمل کا ذکر بڑے شوق سے جماعت کے چلوں سہ روزوں میں ہوتا ہے۔ اب آپ کہتے ہو۔ یہ سب یہاں پر نہیں چلے گا۔

امیر ہاں، نہیں چلے گا۔ یہ ہماری جماعت کا طریقہ نہیں۔

مولوی آپ امیر صاحب کی بات پر غور کیجئے۔ وہ بزرگ ہیں۔ اُنکا تبلیغی جماعت میں لگایا ہوا وقت تو آپکی عمروں کے برابر ہیں۔

جواب مولوی صاحب آپ کیسی شیطان نما بات کر رہے ہیں۔ آپ بھی جانتے ہیں یہ خدا کا گھر ہے اور ہمارے ہاتھوں میں خدا کی کتاب۔ القرآن! جسکے درس پر اب آپ اس گھر کے رکھوالے ہو کر۔ قرآنی درس کے مقابلہ پر کھڑے ہونے کی جسارت کر رہے ہیں۔

مولوی اس سے انتشار پھیل سکتا ہے۔

جواب کیسا انتشار۔

مولوی آپ فرقے بازی کو بھڑوتری دے رہے ہیں۔

جواب کیسی اور کونسی فرقے بازی۔ ہم صرف آیات قرآن اور اُنکا ترجمہ سناتے ہیں۔ یہ ہی ہماری تعلیم کا مکمل حاصل ہے۔ اپنی طرف سے تو کوئی الفاظ تک ادا نہیں کرتے۔

مولوی مالک ہوں یا نہیں۔ یہ سب کام چندے اور دیگر لوازامت سے چلتا ہے۔ اور میں اب تمہیں یہاں پر قرآنی درس کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتا۔

جواب تو پھر ہم یہ درس کہاں پر کریں۔

مولوی میری طرف سے باہر سڑک پر بیٹھ جاؤ۔

جواب مسلمان نماز ادا کرنے سڑک پر نہیں آتے۔ مسجد میں ادا کرتے ہیں۔ تو درس کا بھی درست مقام یہ ہی ہے۔


بند دروازہ — بےدخلی

یوں ہمیں اپنی ہی مسجد سے بےدخل کر دیا گیا۔ اتنی بڑی عمر کا امیر جو اپنی پوری زندگی اسلام کا نام استعمال کر کے تبلیغ کرتا رہا۔ اُسکی بداخلاقی کو دیکھ کر ہم تو ہکا بکا سا رہ گئے۔ اُس نے ہمارے درس قرآن کی ایسی نفی کی کہ ہمیں لگا کہ جیسے ہم کسی شیطان یا دشمن اسلام سے مخاطب ہیں۔ وہ اللہ کی کتاب کے آگ دیوار بن کر ایسے کھڑا ہو گیا جیسا کہ اُسکو قرآن سے کوئی ذاتی دشمنی ہو۔

ہم سوچتے رہے کہ تبلیغی جماعت جس فضائل قرآن کی مثالیں اُچھال اُچھال کر بیان کرتی ہے۔ وہ ہی کام اگر ہم کرو تو اپنی ہی مسجد سے بےدخل کر دیے جاؤ گے۔ جو کام اِن تبلیغیوں نے خود نہیں کرنا۔ وہ نہ اوروں کو کرنے دینا ہے۔ یہ ہے اِنکا اسلام اور اِنکا ہے۔

اور اُس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور منکر حق ہو جبکہ سب اُسکے سامنے آ چکے۔ کیا جہنم نہیں ہے ٹھکانہ کافروں کا۔

— سورة العنکبوت (۲۹) آیت ۶۸

اُس دن سے آج تک ہمارے درس قرآن پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس سے بھی بڑھ کر۔ تمام تبلیغی بھائی جو ہمارے ساتھ سہ روز چلہ لگا چکے تھے۔ اُن میں سے اکثر نے ہمارے ساتھ علیک سلیک تک کرنی بند کر دی۔ حلانکہ ہم کئی سالوں سے ایک ہی مسجد میں نماز باجماعت ادا کرتے تھے۔

واجد بھیا تو میرے سے کہیں زیادہ وقت تبلیغی جماعت کو دے چکے تھے۔ اُنکی زندگی جیسے میں نے کہا زندگی ہی تبلیغ تھی۔ اُن سے یوں قطع کلامی۔ ایسا تو کوئی دشمن نہ کرے۔ جس طرح اُنکے ساتھ ہوا۔ مجھے خود سے زیادہ واجد بھیا پر رونا آیا۔ اُنکی زندگی کے تو بہترین سال ہی تبلیغی جماعت میں صرف ہوئے۔

بولا (شیطان): اچھا جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا۔ پھر میں آؤں گا انکے آگے پیچھے، دائیں بائیں سے، اور تو (اے خدا) ان میں سے اکثر کو ناشکرا پائے گا۔

— سورة الأعراف (۱۷) آیات ۱۶ ت ۱۷

میرا دل تو تبلیغی جماعت کا حصہ بننے سے بےدخل کئے جانے تک زخمی ہو چکا ہے۔ کیونکہ میں انکا اصلی چہرہ پہچان چکا ہوں۔ میں جان چکا ہوں کہ انکی سوچ اپنی ہی کتابیں، جن میں بچوں کی قصے کہانیوں کی مانند اُلٹی سیدھی باتیں درج ہیں وہاں تک محدود ہے۔

اگر میں تبلیغی جماعت کی برائے نام اصلاحی اور اُسکی قرآن دشمنی کو کیس قرآن کی آیت سے بیان کرنا چاہوں۔ تو وہ یہ ہو گی۔

یا پھر اس کی مثال ایسے ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا۔ کہ اوپر موج چھائی ہوئی ہے۔ اس پر ایک اور موج اور اس کے اوپر بادل۔ تاریخی پر تاریخی مسلط ہے۔ آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اُسے بھی نہ دیکھ پائے۔ جسے اللہ نور نہ بخشے اس کے لیے پھر کوئی نور نہیں۔

— سورة النور (۲۴) آیت ۴۰

اب ایسی بنیادی سوچ سے اگر کوئی جاہل تبلیغی سیکھنے سکھانے کی بات کرے۔ تو وہ چاہے بیس سال لگائے یا چالیس وہ جاہل کا جاہل ہی رہتا ہے۔ اور چاہے کوئی کتنا ہی دیانت دار کیوں نہ ہو۔ اگر اُس کو دین کی الف ب تک کا فہم نہیں تو وہ اِنکی جماعت میں آ کر دین کا فہم تو حاصل کرنے سے رہا۔

یہ تمام حقیقت شاید ہمارے سامنے نہ کھلتی۔ اگر ہم سچے دل سے جستجو کر کے قرآن کو اپنا حاکم صادر نہ کرتے اور اُسکے درس کو قائم نہ کرتے۔